نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 199 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 199

199 سے بالکل بے خبر ہے۔یادرکھو رسم اور چیز ہے اور صلوٰۃ اور چیز۔صلوۃ ایسی چیز ہے کہ اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے قرب کا کوئی قریب ذریعہ نہیں۔یہ قرب کی نجی ہے۔اسی سے کشوف ہوتے ہیں اسی سے الہامات اور مکالمات ہوتے ہیں۔یہ دُعاؤں کے قبول ہونے کا ایک ذریعہ ہے لیکن اگر کوئی اس کو اچھی طرح سمجھ کر ادا نہیں کرتا تو وہ رسم اور عادت کا پابند ہے اور اس سے پیار کرتا ہے جیسے ہندو گنگا سے پیار کرتے ہیں ہم دُعاؤں سے انکار نہیں کرتے بلکہ ہمارا تو سب سے بڑھ کر دُعاؤں کی قبولیت پر ایمان ہے۔جبکہ اللہ تعالیٰ نے اُدْعُونِي استجب لكُمُ (المومن (61) فرمایا ہے ہاں یہ سچ ہے کہ خدا تعالیٰ نے نماز کے بعد دُعا کرنا فرض نہیں ٹھہرایا اور رسول اللہ سے بھی التزامی طور پر مسنون نہیں ہے۔آپ ﷺ سے التزام ثابت نہیں ہے اگر التزام ہوتا اور پھر کوئی ترک کرتا تو یہ صلى الله معصیت ہوتی۔تقاضائے وقت پر آپ ﷺ نے خارج نماز میں بھی دُعا کر لی اور ہمارا تو یہ ایمان ہے کہ آپ ﷺ کا سارا ہی وقت دُعاؤں میں گزرتا تھا لیکن نماز خاص خزینہ دُعاؤں کا ہے جو مومن کو دیا گیا ہے اس لیے اس کا فرض ہے کہ جب تک اس کو درست نہ کرے اور اس کی طرف توجہ نہ کرے۔الله