نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 182 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 182

182 موقع ملتا ہے۔دُعا کرنے کے لئے فرصت ہوتی ہے۔ہے۔زیادہ سے زیادہ نماز میں ایک گھنٹہ لگ جاتا ہے اگر چہ بعض نمازیں تو پندرہ منٹ سے بھی کم میں ادا ہو جاتی ہیں پھر بڑی حیرانی کی بات ہے کہ نماز کے وقت کو تضیع اوقات سمجھا جاتا ہے جس میں استقدر بھلائیاں اور فائدے ہیں اور اگر سارا دن اور ساری رات النواور فضول باتوں یا کھیل اور تماشوں میں ضائع کردیں تو اس کا نام مصروفیت رکھا جاتا ہے اگر قوی ایمان ہوتا ، قومی تو ایک طرف اگر ایمان ہی ہوتا، تو یہ حالت کیوں ہوتی اور یہاں تک نوبت کیوں پہنچتی۔سعادتوں کی گنجی ( ملفوظات جلد اوّل، ص 407) نماز پڑھو۔نماز پڑھو کہ وہ تمام سعادتوں کی گٹھی ہے اور جب تو نماز کے لیے کھڑا ہو تو ایسانہ کر کہ گویا تو ایک رسم ادا کر رہا ہے۔بلکہ نماز سے پہلے جیسے ظاہر وضو کرتے ہو ایسا ہی ایک باطنی وضو بھی کرو اور اپنے اعضاء کو غیر اللہ کے خیال سے دھو ڈالو۔تب ان دونوں وضوؤں کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ اور نماز میں بہت دُعا اور رونا اور گڑ گڑانا اپنی عادت کر لو تا تم پر رحم کیا (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد 3 ص 549) جائے۔