نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 177 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 177

177 صلوۃ اور دُعا میں فرق فرمایا: ایک مرتبہ میں نے خیال کیا کہ صلوۃ میں اور دُعا میں کیا فرق ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ الصَّلوةُ هِيَ الدُّعَاءُ الصَّلواةُ مُخُ العِبَادَةِ یعنی نماز ہی دُعا ہے۔نماز عبادت کا مغز ہے۔جب انسان کی دُعا محض دنیوی امور کے لیے ہو تو اس کا نام صلواۃ نہیں لیکن جب انسان خدا کو ملنا چاہتا ہے اور اس کی رضا کو مدنظر رکھتا ہے اور ادب انکسار تواضع اور نہایت محویت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور میں کھڑا ہو کر اس کی رضا کا طالب ہوتا ہے تب وہ صلوۃ میں ہوتا ہے۔اصل حقیقت دُعا کی وہ ہے جس کے ذریعہ سے خدا اور انسان کے درمیان رابطہ تعلق بڑھے۔یہی دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ ہوتی ہے اور انسان کو نا معقول باتوں سے ہٹاتی ہے اصل بات یہی ہے کہ انسان رضائے الہی کو حاصل کرے۔اس کے بعد روا ہے کہ انسان اپنی دنیوی ضروریات کے واسطے بھی دُعا کرے۔یہ اس واسطے روا رکھا گیا ہے کہ دنیوی مشکلات بعض دفعہ دینی معاملات میں حارج ہو جاتے ہیں۔خاص کر خامی اور۔