نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 170 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 170

170 ان سے محبت کرتا ہے اور اس کی محبت ذاتیہ کا ایک افروختہ شعلہ جس کو روحانی وجود کے لیے ایک روح کہنا چاہیے۔اُن کے دل پر نازل ہوتا ہے۔اور ان کو حیات ثانی بخش دیتا ہے۔اور وہ رُوح ان کے تمام وجود روحانی کو روشنی اور زندگی بخشتی ہے۔تب وہ نہ کسی تکلف اور بناوٹ سے خدا کی یاد میں لگے رہتے ہیں بلکہ وہ خدا جس نے جسمانی طور پر انسان کی زندگی روٹی اور پانی پر موقوف رکھی ہے وہ ان کی روحانی زندگی کو جس سے وہ پیار کرتے ہیں اپنی یاد کی غذا سے وابستہ کر دیتا ہے۔اس لیے وہ اس روٹی اور پانی کو جسمانی روٹی اور پانی سے زیادہ چاہتے ہیں۔اور اس کے ضائع ہونے سے ڈرتے ہیں اور یہ اس روح کا اثر ہوتا ہے جو ایک شعلہ کیطرح اُن میں ڈالی جاتی ہے۔جس سے عشق الہی کی کامل مستی اُن میں پیدا ہو جاتی ہے اس لیے وہ یاد الہی سے ایک دم الگ ہونا نہیں چاہتے وہ اس کے لیے دُکھ اٹھاتے اور مصائب دیکھتے ہیں مگر اس سے ایک لحظہ بھی جُدا ہونا نہیں چاہتے اور پاس انفاس کرتے ہیں۔اور اپنی نمازوں کے محافظ اور نگہبان رہتے ہیں۔اور یہ امر اُن کے لیے طبعی ہے کیونکہ در حقیقت خدا نے اپنی محبت سے بھری ہوئی یاد کو جس کو دوسرے لفظوں میں نماز کہتے ہیں۔ان کے لیے