نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 169 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 169

169 میں گزرتا ہے اور نہیں چاہتے کہ ایک دم بھی خدا کے ذکر سے الگ ہوں۔اب ظاہر ہے کہ انسان اسی چیز کی محافظت اور نگہبانی میں تمام تر کوشش کر کے ہر دم لگا رہتا ہے جس کے گم ہونے میں اپنی ہلاکت اور تباہی دیکھتا ہے جیسا کہ ایک مسافر جو ایک بیابان بے آب و دانہ میں سفر کر رہا ہے جس کے صد ہا کوس تک پانی اور روٹی ملنے کی کوئی امید نہیں وہ اپنے پانی اور روٹی کی جو ساتھ رکھتا ہے بہت محافظت کرتا ہے اور اپنی جان کے برابر اس کو سمجھتا ہے کیونکہ وہ یقین رکھتا ہے کہ اس کے ضائع ہونے میں اس کی موت ہے۔پس وہ لوگ جو اس مسافر کی طرح اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں اور کو مال کا نقصان ہو یا عزت کا نقصان ہو یا نماز کیوجہ سے کوئی ناراض ہو جائے نماز کو نہیں چھوڑتے اور اس کے ضائع ہونے کے اندیشے میں سخت بیتاب ہوتے اور پیچ و تاب کھاتے گویا مرہی جاتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ ایک دم بھی یاد الہی سے الگ ہوں۔وہ درحقیقت نماز اور یاد الہی کو اپنی ایک ضروری غذا سمجھتے ہیں جس پر ان کی زندگی کا مدار ہے۔اور یہ حالت اس وقت پیدا ہوتی ہے کہ جب خدا تعالیٰ