نماز عبادت کا مغز ہے — Page 167
167 گر کر اپنے تئیں بکلی کھو دیتی ہے۔اور اپنے نقشِ وجود کو مٹا دیتی ہے۔یہی نماز ہے جو خدا کو ملاتی ہے۔اور شریعت اسلامی نے اُس کی تصویر معمولی نماز میں کھینچ کر دکھلائی ہے۔تا وہ جسمانی نماز روحانی نماز کی طرف محرک ہو۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے انسان کے وجود کی ایسی بناوٹ پیدا کی ہے کہ روح کا اثر جسم پر اور جسم کا اثر روح پر ضرور ہوتا ہے۔جب تمہاری روح غمگین ہو تو آنکھوں سے بھی آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔اور جب روح میں خوشی پیدا ہو تو چہرہ پر بشاشت ظاہر ہو جاتی ہے۔یہاں تک کہ انسان بسا اوقات بننے لگتا ہے۔ایسا ہی جب جسم کو کوئی تکلیف اور درد پہنچے تو اُس درد میں روح بھی شریک ہوتی ہے اور جب جسم کھلی ٹھنڈی ہوا سے خوش ہو۔تو روح بھی اُس سے کچھ حصہ لیتی ہے۔پس جسمانی عبادات کی غرض یہ ہے کہ روح اور جسم کے باہمی تعلقات کی وجہ سے روح میں حضرت احدیت کی طرف حرکت پیدا ہو۔اور وہ روحانی قیام اور رکوع اور سجود میں مشغول ہو جائے کیونکہ انسان ترقیات کے لئے مجاہدات کا محتاج ہے۔اور یہ بھی ایک قسم مجاہدہ کی ہے۔یہ تو ظاہر ہے کہ جب دو چیزیں باہم پیوست ہوں تو جب ہم ان میں سے ایک چیز کو اٹھائیں گے تو اس اٹھانے سے دوسری چیز