نماز عبادت کا مغز ہے — Page 154
154 قبض و بسط بابو نبی بخش صاحب احمدی کلرک لاھور نے عرض کی کہ بعض وقت تو دل میں خود بخود ایک ایسی تحریک پیدا ہوتی ہے کہ طبیعت عبادت کی طرف راغب ہوتی ہے اور قلب میں ایک عجیب فرحت اور سرور محسوس ہوتا ہے اور بعض وقت یہ حالت ہوتی ہے کہ نفس پر جبر اور بوجھ ڈالنے سے بھی حلاوت پیدا نہیں ہوتی اور عبادت ایک بارگراں معلوم ہوتی ہے حضرت اقدسن نے فرمایا کہ : اسے قبض اور بسط کہتے ہیں۔قبض اس حالت کا نام ہے جبکہ ایک غفلت کا پردہ اس کے دل پر چھا جاتا ہے اور خدا کی طرف محبت کم ہوتی ہے اور طرح طرح کے فکر اور رنج اور غم اور اسباب دنیوی میں مشغول ہو جاتا ہے اور بسط اس کا نام ہے کہ انسان دنیا سے دل برداشتہ ہو کر خدا کی طرف رجوع کرے اور موت کو ہر وقت یاد رکھے۔جب تک اس کو اپنی موت بخوبی یاد نہیں ہوتی وہ اس حالت تک نہیں پہنچ سکتا۔موت تو ہر وقت قریب آتی جاتی ہے کوئی آدمی ایسا نہیں جس کے قریبی رشتہ دار فوت نہیں ہوچکے اور آجکل تو وہا سے گھر کے گھر صاف ہوتے