نماز عبادت کا مغز ہے — Page 131
131 اور بھی نہیں چاہتے گویا اُن کے دل دُکھتے ہیں۔یہ لوگ بہت ہی قابل رحم ہیں بعض لوگ یہاں بھی ایسے ہیں کہ اُن کی دکانیں دیکھو تو مسجدوں کے نیچے ہیں مگر بھی جاکر کھڑے بھی تو نہیں ہوتے۔پس میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ سے نہایت سوز اور ایک جوش کے ساتھ یہ دُعا مانگنی چاہیے کہ جس طرح پھلوں اور اشیاء کی طرح طرح کی لذتیں عطا کی ہیں۔نماز اور عبادت کا بھی ایک بار مزہ چکھا دے۔کھایا ہوا یاد رہتا ہے۔دیکھو اگر کوئی شخص کسی خوبصورت کو ایک سرور کے ساتھ دیکھتا ہے تو وہ اُسے خوب یاد رہتا ہے۔اور پھر اگر کسی بدشکل اور مکروہ ہیئت کو دیکھتا ہے، تو اس کی ساری حالت بہ اعتبار اس کے مجسم ہو کر سامنے آجاتی ہے۔ہاں اگر کوئی تعلق نہ ہو تو ، کچھ یاد نہیں رہتا اسی طرح بے نمازوں کے نزدیک نماز ایک تاوان ہے کہ ناحق صبح اُٹھ کو سردی میں وضو کر کے خواب راحت چھوڑ کر کئی قسم کی آسائشوں کو کھو کر پڑھنی پڑھتی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ اسے بیزاری ہے وہ اس کو سمجھ نہیں سکتا۔اس لذت اور راحت سے جو نماز میں ہے اس کو اطلاع نہیں ہے پھر نماز میں لذت کیونکر حاصل ہو میں دیکھتا ہوں کہ ایک شرابی اور نشہ باز انسان کو جب سرور نہیں آتا، تو وہ پے در پے پیالے پیتا جاتا ہے، یہانتک کہ