نماز عبادت کا مغز ہے — Page 132
132 اُس کو ایک قسم کا نشہ آ جاتا ہے۔دانشمند اور بزرگ انسان اس سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے اور وہ یہ کہ نماز پر دوام کرے اور پڑھتا جاوے یہاں تک کہ اُس کو سُرور آجاوے اور جیسے شرابی کے ذہن میں ایک لذت ہوتی ہے جس کا حاصل کرنا اس کا مقصود بالذات ہوتا ہے اسی طرح سے ذہن میں اور ساری طاقتوں کا رجحان نماز میں اُسی سُرور کا حاصل کرنا ہو۔اور پھر ایک خلوص اور جوش کے ساتھ کم از کم اس نشہ باز کے اضطراب اور قلق و کرب کی مانند ہی ایک دُعا پیدا ہو کہ وہ لذت حاصل ہو تو میں کہتا ہوں اور سچ کہتا ہوں کہ یقیناً وہ لذت حاصل ہو جاوے گی۔پھر نماز پڑھتے وقت ان مفاد کا حاصل کرنا بھی ملحوظ ہو جو اس سے ہوتے ہیں اور احسان پیشِ نظر رہے۔( ملفوظات جلد اوّل ،ص103 تا 104 ) جد بعض لوگ کہتے ہیں کہ نماز میں لذت نہیں آتی مگر میں بتلاتا ہوں کہ بار بار پڑھے اور کثرت سے پڑھے۔تقویٰ کے ابتدائی درجہ میں قبض شروع ہو جاتی ہے اسوقت یہ کرنا چاہیئے کہ خدا کے پاس ایساكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِين كا تکرار کیا جائے۔شیطان کشفی حالت میں چور یا قزاق دکھایا جاتا ہے اس کا استغاثہ جناب الہی میں کرے کہ یہ قزاق لگا ہوا ہے۔تیرے