نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 126 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 126

126۔جانوروں تک میں بھی یہ حالت مشاہدہ کی جاتی ہے۔گتے بھی جب اپنے مالک سے محبت کرتے ہیں تو آکر اس کے پاؤں پر اپنا سر رکھ دیتے ہیں۔اور اپنی محبت کے تعلق کا اظہار سجدہ کی صورت میں کرتے ہیں اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ جسم کو رُوح کے ساتھ خاص تعلق ہے ایسا ہی رُوح کی حالتوں کا اثر جسم پر نمودار ہوجاتا ہے جب روح غمناک ہو تو جسم پر بھی اس کے آثار ظاہر ہوتے ہیں اور آنسو اور پژمردگی ظاہر ہوتی ہے۔اگر روح اور جسم کا باہم تعلق نہیں تو ایسا کیوں ہوتا ہے؟ دوران خون بھی قلب کا ایک کام ہے مگر اس میں بھی شک نہیں کہ قلب آبپاشی جسم کیلئے ایک انجمن ہے۔اس کے بسط اور قبض سے سب کچھ ہوتا ہے۔غرض جسمانی اور روحانی سلسلے دونوں برابر چلتے ہیں۔روح میں جب عاجزی پیدا ہو جاتی ہے پھر جسم میں بھی پیدا ہو جاتی ہے۔اس لیے جب روح میں واقع میں عاجزی اور نیازمندی ہو تو جسم میں اس کے آثار خود بخود ظاہر ہو جاتے ہیں اور ایسا ہی جسم پر ایک الگ اثر پڑتا ہے۔تو روح بھی اس سے متاثر ہو ہی جاتی ہے اس لیے ضروری ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے حضور نماز میں کھڑے ہو تو چاہیے کہ اپنے وجود سے عاجزی اور ارادت مندی کا اظہار کرو۔