نماز عبادت کا مغز ہے — Page 119
119 اور رسولوں کے ذریعہ سے اس دنیا پر ظاہر ہوئے ہیں۔اور جو اُنھیں کی اتباع اور اُنھیں کے طریقہ پر چلنے سے حاصل ہو سکتے ہیں۔اور پھر خدا تعالیٰ سے دُعا مانگی گئی ہے کہ ان لوگوں کی راہوں سے بچا جنہوں نے تیرے رسولوں اور نبیوں کا انکار کیا اور شوخی اور شرارت سے کام لیا اور اسی جہان میں ہی ان پر غضب نازل ہوا۔یا جنہوں نے دنیا کو ہی اپنا اور راہِ راست کو چھوڑ دیا۔مقصود مجھ لیا (الحکم اکتوبر 1907 ء ص 11 - تفسیر سورۃ الفاتحہ ،ص 195) مقصود زندگی یاد خدا ہے انسان خدا کی پرستش کا دعوی کرتا ہے مگر کیا پرستش صرف بہت سے سجدوں اور رکوع اور قیام سے ہوسکتی ہے یا بہت مرتبہ تسبیح کے دانے پھیر نے والے پرستار الہی کہلا سکتے ہیں بلکہ پرستش اُس سے ہو سکتی ہے جس کو خدا کی محبت اس درجہ پر اپنی طرف کھینچے کہ اس کا اپنا وجود درمیان سے اُٹھ جائے۔اوّل خدا کی ہستی پر پورا یقین ہو اور پھر خدا کے حسن و احسان پر پوری اطلاع ہو اور پھر اُس سے محبت کا تعلق ایسا ہو کہ سوزشِ محبت ہر وقت سینہ میں موجود ہو اور یہ حالت ہر ایک دم چہرہ پر ظاہر ہو اور خدا کی عظمت دل میں ایسی ہو کہ تمام دنیا اس کی