نماز عبادت کا مغز ہے — Page 110
110 اصل نماز وہ ہے جس میں خدا کو دیکھتا ہے جب خدا کو پہچان لو گے تو پھر نماز ہی نماز میں رہو گے۔دیکھو یہ بات انسان کی فطرت میں ہے کہ خواہ کوئی ادنی سی بات ہو جب اس کو پسند آجاتی ہے تو پھر دل خوامخواہ اس کی طرف کھینچا جاتا ہے۔اسی طرح پر جب انسان اللہ تعالیٰ کو شناخت کر لیتا ہے اور اس کے حسن و احسان کو پسند کرتا ہے تو دل بے اختیار ہوکر اسی کی طرف دوڑتا ہے اور بے ذوقی سے ایک ذوق پیدا ہو جاتا ہے۔اصل نماز وہی ہے جس میں خدا کو دیکھتا ہے۔اس زندگی کا مزہ اسی دن آسکتا ہے جبکہ سب ذوق اور شوق سے بڑھ کر جو خوشی کے سامانوں میں مل سکتا ہے۔تمام لذت اور ذوق دعا ہی میں محسوس ہو۔یاد رکھو کوئی آدمی کسی موت و حیات کا ذمہ دار نہیں ہوسکتا۔خواہ رات کو موت آجاوے یا دن کو۔کو۔جو لوگ دنیا سے ایسا دل لگاتے ہیں کہ گویا بھی مرنا ہی نہیں وہ اس دنیا سے نامراد جاتے ہیں۔وہاں ان کیلئے خزانہ نہیں ہے جس وہ لذت اور خوشی حاصل کرسکیں۔۔الحکم جلد 7 نمبر 1 مورخہ 10 جنوری 1903 ص11) ( تفسير سورة البقرة ،ص 48)