نماز عبادت کا مغز ہے — Page 104
104 جوڑے سے ایک قسم کی بقا کیلئے حظ ہے اسی طرح پر عبودیت اور ربوبیت کے جوڑے میں ایک ابدی بقا کے لیے حظ موجود ہے۔صوفی کہتے ہیں جس کو یہ حظ نصیب ہو جاوے وہ دنیا و مافیہا کے تمام حظوظ سے بڑھ کر ترجیح رکھتا ہے۔اگر ساری عمر میں ایک بار بھی اسکو معلوم ہو جائے تو اُس میں ہی فنا ہو جاوے لیکن مشکل تو یہ ہے کہ دنیا میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جنہوں نے اس راز کو نہیں سمجھا اور ان کی نمازیں صرف ٹکریں ہیں اور اوپرے دل کے ساتھ ایک قسم کی قبض اور تنگی سے صرف نشست و برخاست کے طور پر ہوتی ہیں۔مجھے اور بھی افسوس ہوتا ہے، جب میں یہ دیکھتا ہوں کہ بعض لوگ صرف اس لیے نمازیں پڑھتے ہیں کہ وہ دنیا میں معتبر اور قابل عزت سمجھے جاویں اور پھر اس نماز سے یہ بات ان کو حاصل ہو جاتی ہے ، یعنی وہ نمازی اور پرہیز گار کہلاتے ہیں۔پھر ان کو کیوں یہ کھا جانے والا غم نہیں لگتا کہ جب جھوٹ موٹ اور بیدل کی نماز کو یہ مرتبہ حاصل ہوسکتا ہے تو کیوں ایک نیچے عابد بننے سے ان کو عزت نہ ملے گی اور کیسی عزت ملے گی۔( ملفوظات جلد اوّل ، ص 102 تا 103)