نماز عبادت کا مغز ہے — Page 100
100 کیا جاتا ہے ، جیسے سخت پیاس کے وقت ٹھنڈا پانی پینے سے حاصل ہوتا ہے۔کیونکہ وہ نہایت رغبت سے اسے پیتا ہے اور خوب سیر ہو کر حظ حاصل کرتا ہے یا سخت بھوک کی حالت ہو اور اسے نہایت ہی اعلیٰ درجہ کا خوش ذائقہ کھانا مل جاوے جس کو کھا کر وہ بہت ہی خوش ہوتا ہے۔یہی حالت پھر نماز میں ہو جاتی ہے۔وہ نماز اس کیلئے ایک قسم کا نشہ ہو جاتی ہے جس کے بغیر وہ سخت کرب اور اضطراب محسوس کرتا ہے۔لیکن نماز کے ادا کرنے سے اُس کے دل میں ایک خاص سُرور اور ٹھنڈک محسوس ہوتی ہے جسکو ہر شخص نہیں پاسکتا اور نہ الفاظ میں یہ لذت بیان ہوسکتی ہے اور انسان ترقی کر کے ایسی حالت میں پہنچ جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اُسے ذاتی محبت ہو جاتی ہے اور اس کو نماز کے کھڑے کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی اس لیے کہ وہ نماز اس کی کھڑی ہی ہوتی ہے اور ہر وقت کھڑی ہی رہتی ہے۔اس میں ایک طبعی حالت پیدا ہو جاتی ہے اور ایسے انسان کی مرضی خدا تعالی کی مرضی کے موافق ہوتی ہے۔انسان پر ایسی حالت آتی ہے کہ اس کی محبت اللہ تعالیٰ سے محبت ذاتی کا رنگ رکھتی ہے۔اس میں کوئی تکلف اور بناوٹ نہیں ہوتی جس طرح پر حیوانات اور دوسرے انسان اپنے ماکولات اور