نماز عبادت کا مغز ہے — Page 95
95 تقویٰ کے تین مراتب یا درکھو اتقاء تین قسم کا ہوتا ہے۔پہلی قسم اتقا کی علمی رنگ رکھتی ہے۔یہ حالت ایمان کی صورت میں ہوتی ہے۔دوسری قسم عملی رنگ رکھتی ہے۔جیسا کہ يُقيمون الصلوة میں فرمایا ہے۔انسان کی وہ نمازیں جو شبہات اور وساوس میں مبتلا ہیں کھڑی نہیں ہوتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے يَقُرئون نہیں فرمایا يقيمون فرمایا یعنی جو حق ہے اس کے ادا کرنے کا۔سنو! ہر ایک چیز کی ایک علت غائی ہوتی ہے۔اگر اس سے رہ جاوے تو وہ بے فائدہ ہو جاتی ہے۔نماز میں سوزش صلی جلنے کو کہتے ہیں۔جیسے کباب بُھونا جاتا ہے۔اسی طرح نماز میں سوزش لازمی ہے۔جبتک دل بریان نہ ہو نماز میں لذت اور سُرور پیدا نہیں ہوتا اور اصل تو یہ ہے کہ نماز ہی اپنے بچے معنوں میں اُسی وقت ہوتی ہے۔نماز میں شرط ہے کہ وہ جمیع شرائط ادا ہو۔جیتک وہ ادا نہ ہو وہ نماز نہیں ہے اور نہ وہ کیفیت جو صلوٰۃ میں میل نماز کی ہے حاصل ہوتی ہے۔