نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 24 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 24

24 وہ مبتلا ہیں لیکن ہزار کوشش کریں دور نہیں ہوتا باوجود یکہ نفس تو امہ ملامت کرتا ہے لیکن پھر بھی لغزش ہو جاتی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ گناہ سے پاک کرنا خدا تعالی ہی کا کام ہے۔اپنی طاقت سے کوئی نہیں ہوسکتا۔ہاں یہ سچ ہے کہ اس کے لیے سعی کرنا ضروری امر ہے۔غرض وہ اندر جو گناہوں سے بھرا ہوا ہے اور جو خدا ور جو خدا کی معرفت اور قرب سے دور جاپڑا ہے اس کو پاک کرنے اور دور سے قریب کرنے کے لیے نماز ہے۔اس ذریعہ سے ان بدیوں کو دور کیا جاتا ہے اور اس کی بجائے پاک جذبات بھر دیے جاتے ہیں۔یہی بستر ہے جو کہا گیا کہ نماز بدیوں کو دور کرتی ہے یا نماز فحشاء یا منکر سے روکتی ہے۔پھر نماز کیا ہے ؟ یہ ایک دُعا ہے جس میں پورا درد اور سوزش ہو اسی لیے اس کا نام صلوۃ ہے کیونکہ سوزش اور فرقت اور درد سے طلب کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بد ارادوں اور بُرے جذبات کو اندر سے دور کردے اور پاک محبت اس کی جگہ اپنے فیض عام کے ماتحت پیدا کر دے۔صلوۃ کا لفظ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ برے الفاظ اور دُعا ہی کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ضروری ہے کہ ایک