نماز عبادت کا مغز ہے — Page 23
23 باب II نماز کی حقیقت اور غرض و غایت امراول لا اله الا الله پر سچا ایمان ہے اور اس کے مطابق عمل ہے۔(ناقل) دوسرا امر نماز ہے جس کی پابندی کے لیے بار بار قرآن شریف میں کہا گیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی یاد رکھو کہ اسی قرآن مجید میں ان مصلیوں پر لعنت کی ہے جو نماز کی حقیقت سے ناواقف ہیں اور اپنے بھائیوں سے بخل کرتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ نماز اللہ تعالیٰ کے حضور ایک سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی بدیوں اور بدکاریوں سے محفوظ کر دے۔انسان درد اور فرقت میں پڑا ہوا ہے اور چاہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا قرب اسے حاصل ہو۔جس سے وہ اطمینان اور سکینت اُسے ملے جو نجات کا نتیجہ ہے۔مگر یہ بات اپنی کسی چالا کی یا خوبی سے نہیں مل سکتی جب تک خدا نہ بلاوے یہ جانہیں سکتا جب تک وہ پاک نہ کرے یہ پاک نہیں ہوسکتا۔بہتیرے لوگ اس بات پر گواہ ہیں کہ بارہا یہ جوش طبیعتوں میں پیدا ہوتا ہے کہ فلاں گناہ دور ہو جاوے جس میں