نماز عبادت کا مغز ہے — Page 204
204 سے مانگنے والا جو بے مثل کریم ہے کیوں نہ پائے ؟ پس مانگنے والا کبھی نہ کبھی ضرور پالیتا ہے۔نماز کا دوسرا نام دُعا بھی ہے جیسے فرمایا ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُم (المومن (61) پھر فرمایا وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِى عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ (البقرة : 187) جب میرا بندہ میری بابت سوال کرے پس میں بہت ہی قریب ہوں میں پکارنے والے کی دُعا قبول کرتا ہوں جب وہ پکارتا ہے۔بعض لوگ اس کی ذات پر شک کرتے ہیں۔پس میری ہستی کا نشان یہ ہے کہ تم مجھے پکارو اور مجھ سے مانگو۔میں تمہیں پکاروں گا اور جواب دوں گا اور تمہیں یاد کروں گا۔اگر یہ کہو کہ ہم پکارتے ہیں پر وہ جواب نہیں دیتا تو دیکھو کہ تم ایک جگہ کھڑے ہو کر ایک ایسے شخص کو جو تم سے بہت دُور ہے پکارتے ہو اور تمہارے اپنے کانوں میں کچھ نقص ہے۔وہ شخص تو تمہاری آواز سُن کر تم کو جواب دے گا مگر جب وہ دور سے جواب دے گا تو تم یہ باعث بہرہ پن کے سُن نہیں سکو گے۔پس جوں جوں تمہارے درمیانی پر دے اور حجاب اور دوری دور ہوتی جاوے گی ، تو تم ضرور آواز کو سنو گے۔جب سے دنیا کی پیدائش ہوئی ہے اس بات کا ثبوت چلا آتا ہے کہ وہ اپنے