نماز عبادت کا مغز ہے — Page 180
رباء 180۔انسان کی فطرت میں دراصل بدی نہ تھی اور نہ کوئی چیز بُری ہے لیکن بد استعالی بُری بنا دیتی ہے۔مثلاً ریاء ہی کو لو۔یہ بھی در اصل بُری نہیں۔کیونکہ اگر کوئی کام محض خدا تعالیٰ کے لیے کرتا ہے اور اس لیے کرتا ہے کہ اس نیکی کی تحریک دوسروں کو بھی ہو تو یہ ریاء بھی نیکی ہے۔ریاء کی دو قسمیں ہیں۔ایک دنیا کے لیے۔مثلاً کوئی شخص نماز پڑھا رہا ہے اور پیچھے کوئی بڑا آدمی آ گیا اس کے خیال اور لحاظ سے نماز کو لمبا کرنا شروع کر دیا۔ایسے موقعہ پر بعض آدمیوں پر ایسا رعب پڑ جاتا ہے کہ وہ پھول پھول جاتے ہیں۔یہ بھی ایک قسم ریاء کی ہے جو ہر وقت ظاہر نہیں ہوتی مگر اپنے وقت پر جیسے بھوک کے وقت روٹی کھاتا ہے یا پیاس کے وقت پانی پیتا ہے۔مگر بر خلاف اس کے جو شخص محض اللہ تعالیٰ کے لیے نماز کو سنوار سنوار کر پڑھتا ہے وہ ریاء میں داخل نہیں بلکہ رضائے الہی کے حصول کا ذریعہ ہے۔۔۔۔نماز جو باجماعت پڑھتا ہے اس میں بھی ایک ریاء تو ہے لیکن انسان کی عرض اگر نمائش ہی ہو تو بیشک ریاء ہے اور