نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 148 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 148

148 اب ایک لذت کا رنگ اختیار کرتی جاتی ہے کیونکہ ان بدیوں کے بالمقابل نیکیاں آتی جائیں گی اور ان کے نیک نتائج جو سکھ دینے والے ہیں وہ بھی ساتھ ہی آئیں گے۔یہاں تک کہ وہ اپنے ہر قول وفعل میں جب خدا تعالیٰ ہی کی رضا کو مقدم کر لے گا اور اس کی ہر حرکت اور سکون اللہ ہی کے امر کے نیچے ہوگی تو صاف اور بین طور پر وہ دیکھے گا کہ پورے اطمینان اور سکینت کا مزا لے رہا ہے۔یہ وہ حالت ہوتی ہے۔جب کہا جاتا ہے کم لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَاهُمْ يَحْزَنُونَ ) (البقرة : 63) اسی مقام پر اللہ تعالیٰ کی ولایت میں آتا اور ظلمات سے نکل کر نور کی طرف آجاتا ہے۔یاد رکھو کہ جب انسان خدا تعالیٰ کے لیے اپنی محبوب چیزوں کو جو خدا کی نظر میں مکروہ اور اس کی منشاء کے مخالف ہوتی ہیں چھوڑ کر اپنے آپ کو تکالیف میں ڈالتا ہے تو ایسی تکالیف اُٹھانے والے جسم کا اثر روح پر بھی پڑتا ہے اور وہ بھی اس سے متاثر ہو کر ساتھ ہی ساتھ اپنی تبدیلی میں لگتی ہے۔یہانتک کہ کامل نیاز مندی کے ساتھ آستانہ اُلوہیت پر بے اختیار ہو کر پڑتی ہے۔یہ طریق ہے عبادت میں لذات حاصل کرنے کا۔