نماز اور اس کے آداب

by Other Authors

Page 54 of 105

نماز اور اس کے آداب — Page 54

54 يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَوةِ مِنْ يوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوا إلى ذكر اللهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ذلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَة (سورۃ جمعہ : ۱۰) ترجمہ:۔"اے مومنو! جب تم کو جمعہ کے دن نماز کے لیے بلایا جائے (یعنی نماز جمعہ کے لیے ) تو اللہ کے ذکر کے لیے جلدی جلدی جایا کرو۔اور (خرید اور ) فروخت کو چھوڑ دیا کرو ، اگر تم کچھ بھی علم رکھتے ہو تو یہ تمہارے لیے اچھی بات ہے۔“ عورتوں کے لیے واجب نہیں اگر وہ شامل ہو جائیں تو ان کی نماز جمعہ ہو جائے گی ورنہ وہ ظہر کی نماز ہی پڑھیں۔نماز جمعہ کا طریق سورج ڈھلنے کے عمل کے ساتھ ہی مؤذن جمعہ کی پہلی اذان دیتا ہے جس کو سن کر نمازی مساجد کی طرف جمعہ کی نماز کے لیے رخ کرتے ہیں۔امام / خطیب جب خطبہ کے لیے آئے تو (امام کی اجازت سے ) دوسری اذان دی جاتی ہے۔امام تشہد اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد خطبہ پڑھتا ہے جس میں حسب حالات اور موقعہ کی ضرورت کے متعلق وہ مسلمانوں کو ہدایت دیتا ہے ( یا اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے ) اس کے بعد امام / خطیب چندلمحات کے وقفہ کے لیے بیٹھ جاتا ہے۔پھر کھڑے ہوکر دوسرا ( ثانیہ ) خطبہ پڑھتا ہے یہ