نماز اور اس کے آداب — Page 45
45 حصہ میں بالعموم دو دو رکعت کر کے پڑھتے تھے پھر آخر میں تین رکعت وتر ادا فرماتے (پڑھتے) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نماز تہجد کے بارے میں فرماتے ہیں:۔جو خدا تعالیٰ کے حضور تضرع اور زاری کرتا ہے اور اس کے حدود و احکام کو عظمت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس کے جلال سے ہیبت زدہ ہو کر اپنی اصلاح کرتا ہے وہ خدا کے فضل سے ضرور حصہ لے گا۔اس لیے ہماری جماعت کو چاہیے کہ وہ تہجد کی نماز کولازم کر لیں۔جو زیادہ نہیں وہ دو ہی رکعت پڑھ لے۔کیونکہ اس کو دعا کرنے کا موقعہ بہر حال مل جائیگا۔اس وقت کی دعاؤں میں ایک خاص تاثیر ہوتی ہے۔کیونکہ وہ بچے درد اور جوش سے نکلتی ہیں۔“ ( ملفوظات جلد نمبر 2 صفحہ 182) نماز وتر جیسا کہ بیان ہو چکا ہے کہ نماز وتر واجب نماز ہے وتر کے معنے طاق کے ہیں اس لیے عشا کی نماز کے بعد تین رکعات نماز پڑھے جس کا طریق یہ ہے:۔وتر کی ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد قرآن کریم کی چند آیات یا کوئی سورۃ پڑھی جاتی ہے۔یہ دو طریق سے ادا کی جاسکتی ہے۔(۱) دورکعت پڑھ کر تشہد اور درود کے بعد سلام پھیر دے اور پھر ایک رکعت الگ مکمل کرے۔یا تشہد کے بعد کھڑا ہو جائے خواہ کوئی بھی طریق ہو وتر کی تیسری رکعت میں رکوع کے بعد یا رکوع سے پہلے حالت قیام میں دعا قنوت پڑھے جو کہ درج ذیل ہے۔