نماز اور اس کے آداب

by Other Authors

Page 32 of 105

نماز اور اس کے آداب — Page 32

32 اس کے بعد نماز پڑھنے والا الله اكبر کہہ کر رکوع میں چلا جاتا ہے۔رکوع رکوع اسے کہتے ہیں کہ انسان اس طرح کمر سیدھی کرے کہ اس کا سر اور لاتوں کا اوپر کا حصہ ایک دوسرے کے متوازی ہو جائیں جھک جاتا ہے ) اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھ لیتا ہے اور لاتیں بالکل سیدھی رکھتا ہے۔ان میں خم پیدا ہونے نہیں دیتا۔اس حالت میں وہ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيم کا فقرہ کہتا ہے جس کے یہ معنے ہیں کہ میرا رب جو اپنی شان کی وسعت میں سب سے بڑھ کر ہے تمام نقائص سے پاک ہے۔یہ فقرہ کم سے کم تین بار یا اس سے زائد طاق عدد میں وہ دہراتا ہے۔(سنن ترمذی کتاب الصلوة ) پھر سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہہ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔جس کے معنے ہیں کہ خدا تعالیٰ ہر اس شخص کی دعا کو سنتا ہے جو سچے دل سے اس کی تعریف بیان کرتا ہے۔اس کے بعد پھر وہ سیدھا کھڑا ہوکر ہاتھ سید ھے چھوڑ کر یہ دعامانگتا ہے۔