نماز اور اس کے آداب

by Other Authors

Page 4 of 105

نماز اور اس کے آداب — Page 4

4 ۲۔حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمد یہ فرماتے ہیں: ”جو شخص پنجگانہ نماز کا التزام نہیں کرتا۔وہ میری جماعت میں سے کشتی نوح صفحه ۲۸ نہیں ہے۔“ ایک اور جگہ فرماتے ہیں: نماز سے بڑھ کر اور کوئی وظیفہ نہیں ہے کیونکہ اس میں حمد الہی ہے۔استغفار ہے اور درود شریف۔تمام وظائف اور اور اد کا مجموعہ یہی نماز ہے اور اس سے ہر قسم کے غم و ہم دور ہوتے ہیں اور مشکلات حل ہوتی ہیں۔۔۔۔نماز ہی کو سنوار سنوار کر پڑھنا چاہئے اور سمجھ سمجھ کر پڑھو اور مسنون ( سنت نبوی کے مطابق ناقل ) دعاؤں کے بعد اپنے لیے اپنی زبان میں بھی دعائیں کرو۔اس سے تمہیں اطمینان قلب حاصل ہوگا اور سب مشکلات خدا تعالیٰ چاہے گا تو اسی سے حل ہو جائیں گی۔نماز یا دالہی کا ذریعہ ہے اس لیے فرمایا ہے: أَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكْرَى (۱۵) ( ملفوظات جلد نمبر ۳ صفحه ۳۱۰،۳۱۱) اگر انسان نے کسی خاص منزل پر پہنچنا ہے تو اس کے واسطے چلنے کی ضرورت ہوتی ہے جتنی لمبی وہ منزل ہوگی اتناہی زیادہ تیزی ، کوشش اور محنت اور دیر تک اسے چلنا ہوگا سو خدا تعالیٰ تک پہنچنا بھی تو ایک منزل ہے اور اس کا بعد اور دوری بھی لمبی۔پس جو شخص خدا تعالیٰ سے ملنا چاہتا ہے اور اس کے دربار میں پہنچنے کی خواہش رکھتا ہے اس کے واسطے نماز ایک گاڑی ہے جس پر سوار ہو کر وہ جلد تر پہنچ سکتا ہے جس نے نماز ترک کر دی وہ کیا پہنچے گا۔“ ( ملفوظات جلد سوم صفحه ۱۸۹)