نماز اور اس کے آداب

by Other Authors

Page 52 of 105

نماز اور اس کے آداب — Page 52

52 میں نے نماز کو کما حقہ ادا کیا ہے۔پانچواں درجہ نماز کا یہ ہے کہ انسان نماز میں پوری محویت حاصل کرے اور جس طرح غوطہ زن سمندر میں غوطہ لگاتے ہیں اسی طرح وہ بھی نماز کے اندر غوطہ مارے۔یہانتک کہ وہ دو میں سے ایک مقام حاصل کر لے یا تو یہ کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہو اور یا یہ کہ وہ اس یقین کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہو کہ خدا تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔۔چھٹا درجہ ایمان کا یہ ہے کہ نوافل پڑھے جائیں۔یہ نوافل پڑھنے والا گویا خدا تعالیٰ کے حضور یہ ظاہر کرتا ہے کہ میں نے فرائض کو تو ادا کر دیا ہے مگر ان فرائض سے میری تسلی نہیں ہوئی اور وہ کہتا ہے اے خدا میں یہ چاہتا ہوں کہ میں ان فرائض کے اوقات کے علاوہ بھی تیرے دربار میں حاضر ہوا کروں۔ساتواں درجہ ایمان کا یہ ہے کہ انسان نہ صرف پانچوں نمازیں اور نوافل ادا کرے بلکہ رات کو بھی تہجد کی نماز پڑھے۔یہ وہ سات درجات ہیں جن سے نماز مکمل ہوتی ہے۔اور ان درجات کو حاصل کرنے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے متعلق حدیث میں آتا ہے کہ خدا تعالیٰ رات کے وقت عرش سے اترتا ہے اور اس کے فرشتے پکارتے ہیں کہ اے میرے