نماز اور اس کے آداب

by Other Authors

Page 48 of 105

نماز اور اس کے آداب — Page 48

48 خلاف فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔بے شک جس کا تو والی ہو۔وہ ذلیل نہیں ہوتا۔یقیناً وہ معزز نہیں ہوسکتا جس کا تو دشمن ہو تو برکت والا ہے ہمارا رب اور بلندشان ے اور نبی ﷺ پر تیری رحمت و برکت ہو۔نماز با جماعت قرآن پاک کی تعلیم کے مطابق نماز فرض با جماعت ادا کی جانی ضروری ہے۔البتہ کسی مجبوری کی وجہ سے اگر با جماعت نماز ادا نہ ہو سکے تو پھر اکیلے پڑھنی چاہیئے۔مساجد نماز باجماعت کے لئے ہی بنائی جاتی ہیں تاکہ تمام مسلمان نماز مساجد میں باجماعت ادا کریں نماز با جماعت پڑھنے سے ستائیس گنا ثواب زیادہ ملتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے نماز با جماعت کی افادیت اور اہمیت کے بارے میں فرمایا کہ اگر مسلمان کو نماز با جماعت کی ادائیگی پر ثواب کا علم ہو جائے تو مجبوری کی حالت میں بھی گھٹنوں کے بل چل کر آنے سے دریغ نہ کریں۔نماز با جماعت کا طریق نماز با جماعت کا طریق یہ ہے کہ ایک نیک متقی عالم دین شخص امام بنے۔نماز پڑھانے کے لیے وہ آگے کھڑا ہو جاتا ہے اور دوسرے نماز پڑھنے والے جنہیں مقتدی کہا جاتا ہے امام کے پیچھے صف بنا کر اس کی اقتداء ( پیروی) کرتے ہیں۔نماز با جماعت کے لیے کم از کم دو آدمی ہونے چاہئیں۔اس صورت میں امام اور مقتدی اکٹھے کھڑے ہوتے ہیں۔مقتدی امام کے دائیں طرف کھڑا ہوتا ہے۔جب مقتدی دو یا دو سے زائد ہوں تو مقتدیوں کے لیے امام کے پیچھے صف بندی کی جاتی ہے۔اس طرح کہ صفیں بالکل سیدھی ہوں اور اتنے فاصلے پر ہوں کہ پچھلی صف کے مقتدی بآسانی سجدہ کر سکیں۔صفیں بالکل سیدھی ہونی