نماز اور اس کے آداب — Page 27
27 طرح بنتی ؟ اس لئے سمت کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے مقرر فرمایا اور حکم دیا: وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ ، ط (البقرہ: ۱۴۵) اور جہاں کہیں بھی تم ہو تو اپنا منہ اس کی طرف کرو۔یہ پیشگوئی اللہ تعالیٰ نے رسول پاک ﷺ کے ذریعے پوری کی اور یہ مقام مسلمانوں کے ظاہری اجتماع کا مرکز بنا دیا گیا۔تمام مسلمانانِ عالم کا دن میں پانچ باراس طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا عمل اللہ تعالیٰ کی کامل واحدانیت ، عالمگیر یک جہتی ، اتحادِ انسانیت، انسانوں کے درمیان مساوات اور عشق رسول ﷺ کی منہ بولتی تصویر ہے۔نوٹ:۔اگر انسان ایسی حالت میں ہو کہ کعبہ کے رخ کا علم نہ ہو سکے ( مثلا اگر ہوائی سفر پر ہو) تو جدھر بھی منہ کر کے نماز پڑھ لی جائے جائز ہے۔اسی طرح سوار ہونے کے دوران ضروری نہیں کہ نماز پڑھنے والے کا رخ ہمہ وقت خانہ کعبہ کی طرف رہے۔نیت صحت نماز کے لیے نیت بھی ضروری ہے۔نیت کے عام معنے ارادے کے ہیں۔اگر ظہر کے وقت نیت یہ کی ہے کہ چار رکعت فرض شروع کرنے لگا ہے تو یہ نماز فرض ہوگی۔اگر چار رکعت سنت کی نیت ہے تو یہ سنت نماز ہوگی۔نیت کا تعلق دل سے ہے اور اس میں خلوص کا مفہوم شامل ہے۔اس لیے دل میں خلوص کے ساتھ طے ہونا چاہیے کہ وہ کون سی نماز اور کتنی رکعت نماز شروع کرنے لگا ہے۔منہ سے نیت کے مندرجہ ذیل الفاظ ادا کرنا ضروری ہیں۔وَجْهُتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوتِ