نماز اور اس کے آداب — Page 12
12 ارشاد حضرت خلیفة المسیح الثاني نورالله مرقده بچوں کو نماز با جماعت کی عادت نہ ڈالنے والے ان کے خونی اور قاتل ہیں ” بڑا آدمی اگر خود نماز با جماعت نہیں پڑھتا تو وہ منافق ہے مگر وہ لوگ جو اپنے بچوں کو نماز با جماعت ادا کرنے کی عادت نہیں ڈالتے وہ ان کے خونی اور قاتل ہیں اگر ماں باپ بچوں کو نماز با جماعت کی عادت ڈالیں تو کبھی اُن پر ایسا وقت نہیں آ سکتا کہ یہ کہا جا سکے کہ ان کی اصلاح ناممکن ہے اور وہ قابل علاج نہیں ہے۔۔۔نماز کو سنوار کر پڑھنے والا اور اُن شرائط کوملحوظ رکھنے والا جو اللہ تعالیٰ نے ادائے نماز کے لئے مقرر فرمائی ہیں اپنے اندر فوراً ایک تبدیلی پاتا ہے اور زیادہ دن نہیں گزرتے کہ اس کے اندر ایک خاص ملکہ پیدا ہو جاتا ہے جس سے اُسے بدیوں کی شناخت ہو جاتی ہے اور پوشیدہ در پوشیدہ بدیوں پر اُسے اطلاع دی جاتی ہے اور مخفی در مخفی گناہوں کا علم جو دوسروں کو نہیں ہوتا اُسے دیا جاتا ہے اور ملائکہ اسے ہر موقعہ پر ہوشیار کر دیتے ہیں کہ دیکھنا یہ گناہ ہے ہوشیار ہو جانا اور اُسے شیطان کے مقابلہ کی مقدرت عطا ہوتی ہے کیونکہ نمازی اللہ تعالے کی تسبیح وتحمید کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کسی کا احسان نہیں رکھتا بلکہ اپنے بندہ کو اس کے اعمال کا اعلیٰ