نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف — Page 21
پھر تا قیام خلافت ثانیہ غیر مبایعین کے اپنے بیانات سے بھی جب تک کہ اختلاف کی صورت قائم نہ ہوئی تھی اور خلافت ثانیہ کا قیام نہ ہو گیا صحیح موقف کی طرفف نشاندہی ہوتی ہے۔اس سلسلہ میں خاکسار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دو قسم کے ارشادات پیش کرے گا۔ایک عمومی جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت محمدیہ میں خلافت کے دائمی طور پر جاری رہنے کا ذکر ہے اور دوسرے خصوصی ارشادات جن سے خالصہ یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد خافت بعد تقی کا سلسلہ قائم ہوگا۔- حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام اپنی کتاب شهادة القران صفحہ ۳۲ پر تحریر فرماتے ہیں :- بعض صاحب آیت وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمُ عملوا الصلاحتِ لَيَسْتَخْلِفَتَهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَغْاَفَ الَّذِينَ مِن قَبْهِر کی عمومیت سے انکار کر کے کہتے ہیں کہ منکر سے صحابہ ہی مراد ہیں اور خلافت راشدہ انہی کے زمانہ نک ختم ہو گئی اور پھر قیامت تک اسلام میں اس خلافت کا نام نشان نہیں ہوگا۔گویا ایک خواب و خیال کی طرح اس خلافت کا صرف تین سے برس ہی دور تھا اور پھر ہمیشہ کے لیے اسلام ایک لازوال نخوست میں پڑ گیا۔" - پھر اسی کتاب کے صفحہ ، ہ پر آپ نے لکھا: - ان آیات لایت است خلاف و غیر۔ناقل کو اگر کوئی شخص قاتل اور غور کی نظر سے دیکھے تو میں کیونکر کہوں کہ وہ اس بات