نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف

by Other Authors

Page 60 of 78

نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف — Page 60

4۔جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے ، صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں نگران معنوں سے کہ میں نے اپنے رسول مفت را سے باطنی فیوض حاصل کر کے اور اپنے لیے اس کا نام پا کر اس کے واسطہ سے خدا کی طرف سے علم غیب پایا ہے ، رسول اور نبی ہوں مگر بغیر کسی جدید شریعیت کے۔اس طور کا بھی کہلانے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا۔بلکہ اپنی معنوں خدا نے مجھے نبی اور رسول کرکے پکا رہا ہے۔سواب بھی کیں ان معنوں سے نبی اور رسول ہونے سے انکار نہیں کرتا۔را یک غلطی کا ازالہ حثت (9) اور پھر فرماتے ہیں :- ہاں یہ بات یاد رکھنی چاہئیے اور ہرگز فراموش نہیں کرنی چاہیئے کہ میں با وجود نبی اور رسول کے لفظ کے ساتھ پکارے جانے کے خدا کی طرف سے اطلاع دیا گیا ہوں کہ یہ تمام فیوض بلا واسطہ میرے پر نہیں ہیں، بلکہ آسمان پر ایک پاک وجود ہے جس کا روحانی رقاصہ میرے شامل حال ہے یعنی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم۔اس واسطہ کو ملحوظ رکھ کر اور اس میں ہو کر اور اس کے نام محمد اور احمد سے مسمی ہو کر میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی۔" (ایک غلطی کا ازالہ حث) اور مارچ شاہ میں وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :- ر ہما را دعوی ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔در اصل یہ نزاع لفظی ہے خدا تعالیٰ اس کے ساتھ ایسا مکالمہ مخاطبہ کرے جو بلحاظ کمیت و