نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف — Page 71
41 نگر میں ان معنوں سے نبی نہیں ہوں کہ گویا اسلام سے اپنے تئیں الگ کرتا ہوں یا اسلام کا کوئی حکم منسوخ کرتا ہوں ، میری گردن اُس جوئے کے نیچے ہے جو قرآن شریف نے پیش کیا اور کسی کو مجال نہیں کہ ایک نقطہ یا ایک شعشہ قرآن شریف کا منسوخ کر سکے ، سوئیں صرف اس وجہ سے بھی کہلاتا ہوں کہ عربی اور عبرانی زبان میں نبی کے یہ معنے ہیں کہ خدا سے الہام پا کر بکثرت پیشینگوئی کرنیوال۔اور بغیر کثرت کے یہ معنے متحقق نہیں ہو سکتے " یہ خط حضرت اقدس نے ۲۳ مئی شن شاہ کو لکھا۔جو اخبار عام ۶ برشی شاہ میں آپ کی وفات کے روز شائع ہوا اور یہ آپ کا آخری مکتوب تھا۔اگر یہ درست ہوتا کہ آپ نے نبوت کا کوئی دعویٰ نہیں کیا تو آپ اس خبر کی تردید کیوں کرتے ، جو اخبار عام ۲۳ مئی شائر میں شائع ہوئی تھی کہ آپ نے دعوائی نبوت سے انکار کیا ہے یعنی آپ مدعی نبوت نہیں ہیں۔اور کیوں فرماتے :- سوئمیں خدا کے حکم کے موافق نبی ہوں اور اگر میں اس سے انکار کروں تو میرا گناہ ہوگا اور میں حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیوں کر انکار کر سکتا ہوں۔میں اس پر قائم ہوں اُس وقت تک جو اس دنیا سے گزر جاؤں۔دو مرتبہ احمدی دوستوں نے مخالفین کو یہ جواب دیا کہ آپ نبی اور رسول