نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف

by Other Authors

Page 72 of 78

نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف — Page 72

۷۲ نہیں ہیں تو حضور نے دونوں فخر تردید فرمائی۔ایک دفعہ توست میں ایک غلطی کا ازالہ شائع کر کے ، اور دوسری مرتبہ پانچ منشاء میں جیسا کہ بدر ہر پانچ شائد میں حضرت مسیح موعود کی ڈائری کے زیر عنوان یہ تفصیل لکھا ہے۔اور تیسری مرتبہ جب اخبار عام میں یہ خبر شائع ہوئی کہ آپ نے جلسہ دعوت میں اپنے دعوی نبوت سے انکار کیا ہے تو حضور نے فوراً اس کی تردید فرمائی۔ان چند حوالجات سے مر را توس علیہ الصلواۃ والسّلام کا موقف اپنے نبی ہونے کے متعلق ظاہر وباہر ہے اور یہ کہتا ہے کہ آپ کو مطلقاً دعوائی ثبوت نہیں تھا اور آپ دوسرے مد دین امت اور محد ثین کی طرح محض ایک مُجدد اور محدث تھے اس سے زیادہ اور کوئی منکر حقیقت نہیں ہو سکتا۔ہیں موقت آپ کے دونوں خلفاء حضرت خلیفہ اشیخ الاول اور حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہما کا تھا :- حضرت خلیفہ اشیح الاول رضی اللہ عنہ کا موقف ایڈیٹر صاحب بدر حضرت خلیفہ الشیخ الاول رضی اللہ عنہ کے کلمات کے سلسلہ میں لکھتے ہیں :- ذکر تھا کہ مولوی محمد شین نے لکھا ہے کہ اگر احمدی مرزا صاحب کو نبی کہنا چھوڑ دیں، تو ہم کفر کا فتونی واپس لے لیں گئے : فرمایا " ہمیں اُن کے فتووں کی کیا پروا ہے اور وہ حقیقت ہی کیا رکھتے ہیں۔جب سے مولوی محمد حسین