نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف — Page 56
۵۶ اس لیے اس وحی نے آپ کو اپنے پہلے خیال پر قائم نہ رہنے دیا ، جیسا کہ حضرت اقدس خود فرماتے ہیں کہ : بعد میں جو بارش کی طرح وحی میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت۔وہ نہی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہوتا تو میں اس کو لوجہ اپنے آپ کو نبی نہ سمجھنے کے جزئی فضیلت قرار دیتا تھا۔ناقل ) قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے اُمتی " (حقیقة الوحی من) اس کے بعد آپ نے حضرت مسیح ناصری سے ہر شان میں افضل ہونے کا اعلان فرما دیا۔پس جب یہ امر خدا تعالیٰ کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر پوری طرح منکشف ہو گیا کہ مروجہ تعریف نبوت جامع مانع نہیں اور یہ کہ نبی کے لیے نئی شریعت کا لانا ضروری نہیں اور نہ ہی یہ ضروری ہے کہ وہ سابقہ شریعت کے بعض احکام کو منسوخ کرے اور سابق نبی کا امتی نہ ہو، تو حضرت اقدس نے نبوت و رسالت کی حقیقت ان الفاظ میں بیان فرمائی: خدا کی اصطلاح فرمایا :- - نبوت اور رسالت کا لفظ خدا تعالیٰ نے اپنی وحی میں میری نسبیت صد ہا مرتبہ استعمال کیا ہے ، مگر اس لفظ سے وہ مکالمات و مخاطبات البیہ مراد ہیں جو بکثرت ہیں اور غیب پرشتمل ہیں۔اس