نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف — Page 54
۵۴ مانچه حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :- چونکہ اسلام کی اصطلاح میں نبی اور رسول کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ وہ کامل شریعیت لاتے ہیں یا بعض احکام شریعت سابقہ کو منسوخ کرتے ہیں یا نبی سابق کی اُمت نہیں کہلاتے اور براہ راست است بخیر استفاضہ کسی نبی کے خدا تم سے تعلق رکھتے ہیں۔اس لیے ہو شیار رہنا چاہیئے کہ اس جگہ بھی یہی معنے نہ سمجھ لیں کیونکہ ہماری کتاب بجز قرآن کریم کے نہیں ہے اور ہمارا کوئی رسول بجز محمد مصطفے اصلی اللہ علیہ وسلم کے نہیں ہے اور ہمارا کوئی دین بیز اسلام کے نہیں ہے اور ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء اور قرآن شریف خاتم الکتب ہے " ملاحظہ ہو مکتوب حضرت مسیح موعود مورخہ ۷ اراگه مندرجه الحكم جلد ۳ ص۹۲۹شائه نبوت کی مذکورہ بالا تعریف کی رو سے جو مسلمانوں میں رائج تھی، حضرت اقدس ، اپنے آپ کو کسی صورت میں نبی اور رسول قرار نہیں دے سکتے تھے اور التباس سے بچنے کے لیے حضور ان الفاظ کا استعمال اپنے لیے بہت کم کرتے تھے اور جب اللہ تعالیٰ کی وحی میں آپ کو نبی کہا جاتا تو آپ اُس پرانے عقید کی بناء پر جو اُس وقت مسلمانوں میں رائج تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا اپنے آپ کو نبی کہنے کی بجائے ان الہامات تا دیلی معنے کر لیتے تھے کہ نبی سے مراد صرف جزئی نبوت کا حامل نبی معنی محدث ہے۔مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ آپ اپنے دعوی کو نہ سمجھے سکے ہوں۔