نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف — Page 49
۴۹ مصلی نبی ، شرعی نبی ، غیر شرعی نبی ، نبوت ناقصہ اور نبوت کا ملہ وغیر وغیر الفاظ سے کیں اور کسی نبی کی نبوت میں کوئی تفریق تتلائی ؟ خلی اور بروزی وغیرہ تو صرف صوفیاء کی اصطلا میں ہیں تشریعی نبوت میں بھی کچھ امتیاز انہی بزرگوں نے کیا ہے ، قرآن حدیث اور صحف انبیاء میں ایسے لفظ کہیں نہیں" اپیغام مسلح ، ۱۲ ر ا پریل ۱۹۱۷مه) الغرض خلافت کے انکار سے متعلق اہل پیغام کا جوش انکارِ نبوت پر منتج ہوا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے بلند مقام کی وضاحت کے لیے علی اور بروزی نبی کے جو الفاظ استعمال کیے تھے اُن کو اہل پیغام نے حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کی نبوت سے کلی انکار کا ذریعہ بنالیا۔حالانکہ یہ الفاظ آپ کے مقام نبوت کی نفی نہیں کرتے بلکہ اس کی عظمت پر دلالت کرتے ہیں۔کیونکہ اصل نبوت نبوت محمدیہ ہے باقی سب بتوتیں اور سب روحانی مقامات و در حبات نور محمدی کا پر تو اور فل ہیں۔تخلیق عالم کا باعث حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات ہے اور سب سے پہلے حدیث أَوَّلُ مَا خَلَقَ اللهُ نُورِى کے بموجب نور محمدی کی تخلیق ہوئی اور سب نبوتیں اور سب کمالات روحانیہ اس نور کے عکس سے پیدا ہوئے۔مگر جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نفس نفیس اس عالم میں ظہور پنی پیرنہ ہوئے اور قرآن شریف جیسی کامل کتاب نازل نہ ہوئی اس وقت تک کوئی نبی حضور صلعم کا اکمل اور ا تم ظل نہ بن سکا اس لیے کوئی بنی طبقی نبی نہ کہلایا۔مگر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فداہ نفی کا بابرکت ظہور دنیا میں ہو گیا اور قرآن شریف جیسی کامل کتاب نازل ہو گئی اس وقت وہ وجود جو کامل طور پر فنا فی الرسول ہو گیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل خلق