نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف

by Other Authors

Page 4 of 78

نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف — Page 4

وجود جسے لوگ مرزا قادیانی کہتے تھے خدا کا برگزیدہ نبی ہے؟ (اخبار بدر د ارجون شده م) یاد رہے کہ جماعت احمدیہ کے نزدیک نئی شریعیت لانے والا نبی ہرگز نہیں آسکتا ، بلکہ جو ایسا دعوی کرے وہ کافر اور کذاب ہے۔صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی اور غیر تشریعی نبی آسکتا ہے۔خود حضرت بانی سلسلہ احمدیہ تحریر فرماتے ہیں :- اب بھیز محمدی نبوت کے سب بنو تیں بند ہیں بشرعیت والا نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر تشریعیت کے بنی ہو سکتا ہے مگر وہی جو پہلے اُمتی ہو۔نہیں اس بنا پر میں امتی بھی ہوں اور نبی بھی " پہ (تجلیات الله صفحه (۲۵) مارچ میں ، خلافت ثانیہ کے قیام کے وقت ، جن لوگوں نے بیت سے انکار کر دیا تھا اور جو غیر مبایعین قرار پائے تھے وہ بھی مارچ ۱۹۱۳ء تک سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی غیر تشریعی نبوت کا اقرار کرتے تھے۔چنانچہ میں اُن کے حوالہ جات اُن کے اپنے الفاظ میں بیان کرنے پر اکتفا کروں گا۔ان واضح تصریحات کی موجودگی میں کسی حاشیہ اور ضمیمہ کی قطعاً ضرورت نہیں۔حوالہ جات کی عبارتیں ہی کافی ہیں۔پہلے دو حوالے اصولی ہیں جن میں خاتم النبيين نیچے معنی اور لانبی بعدی کا صحیح مفہوم بتایا گیا ہے۔علاوہ ازیں میں حوالے ایسے ہیں جن میں اُن کے اکابر و اصاغر نے سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت ورسالت کا اعتراف کیا ہے۔حوالہ جات حسب ذیل ہیں: ختم نبوت کے پیچھے معنے مولوی محمد علی صاحب جو ۱۵ مارچ سالہ سے