نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف

by Other Authors

Page 34 of 78

نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف — Page 34

۳۴ دیگر خلفاء تھے۔علاوہ ازیں حضرت خلیفہ اول مضر کے مندرجہ ذیل ارشادات بھی اس امر کی وضاحت کر رہے ہیں۔ایک موقع پر حضرت نے فرمایا :- ایک نکتہ قابل یاد سُنائے دیتا ہوں کہ جس کے اظہار سے میں باوجو کوشش کے رک نہیں سکتا۔وہ یہ کہ میں نے حضرت خواجہ سلیمان رحمتہ اللہ علیہ کو دیکھا۔اُن کو قرآن شریف سے بڑا تعلق تھا۔ان کے ساتھ مجھے بہت محبت ہے۔۷۸ برس تک انہوں نے خلافت کی۔۲۲ برس کی عمر میں وہ خلیفہ ہوئے۔یہ بات یا درکھو، میں نے کسی خاص مصلحت اور خالص بھلائی کے لیے کسی ہے " ریور ۲۷ جولائی ۹) - شہ میں جب آپ بیمار ہوئے تو آپ نے ایک وصیت لکھی اور اپنے ایک شاگرد کے سپرد کر دی۔اس میں آپ نے لکھا :- خليفة - محمود صحت ہونے پر آپ نے اس وصیت کو جو بت تھی پھاڑ دیا۔۱۱ ۲ مارچ ۱۹۱۷ء کو حضرت خلیفہ اول کو بعد نماز عصر یکا یک ضعف محسوس ہونے لگا۔آپ نے قلم دوات لانے کا حکم دیا اور لیٹے لیٹے کا غذ ہاتھ میں لیا اور حسب ذیل وصیت اپنے جانشین کے بارہ میں لکھی : میرا جانشین متقی ہو ، ہر دلعزیز - عالم باعمل حضرت صاحب کے پرانے اور نئے احباب سے سلوک چشم پوشی ، در گذر کو کام لا دے۔میں سب کا خیر خواہ تھا۔وہ بھی خیر خواہ رہے۔قرآن و حدیث کا درس جاری رہے۔والسلام" (الحکم، مارچ امث )