نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف — Page 35
۳۵ یہ وصیت حضرت خلیفہ المسیح اول ما نے اپنی مرض الموت میں مولوی محمدعلی صاحب سے تین بار حاضرین مجلس کے سامنے پڑھوائی اور اس کی قصدات کردانی - اپنے جانشین کے بارہ میں حضرت خلیفہ المسیح الاول نے جو ارشادات فرمائے ہیں ان سے بھی الم نشرح ہے کہ آپ شخصی خلافت کے قائل تھے اور اسی کو آپ خلافت راشدہ کے طریق پر درست سمجھتے تھے۔اور اپنے بعد بھی اسی طریق کو جاری رکھنے کی آپ نے وصیت فرمائی۔غیر مبالعین کے بیانات تا قیام خلافت ثانیہ (ا) حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ : ر مئی منشاء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے موقعہ پر خواجہ کمال الدین صاحب، مرزا یعقوب بیگ صاحب اور ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب لاہور سے قادیان آئے تو اس موقع پر خواجہ کمال الدین صاحب نے کھڑے ہو کر نہایت پر سوز تقریر کی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ : " خدا کی طرف سے ایک انسان منادی بن کر آیا جس نے لوگوں کو خدا کے نام پر بلایا ، ہم نے اس کی آواز پر لبیک کسی اور اس کے گرد جمع ہو گئے۔مگر اب وہ ہم کو چھوڑ کر اپنے خدا کے پاس چلا گیا ہے۔سوال یہ ہے کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہیئے ہے اس پر شیخ رحمت اللہ صاحب نے کھڑے ہو کر ٹھیٹھ پنجابی زبان میں جو کچھ