نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف

by Other Authors

Page 29 of 78

نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف — Page 29

۲۹ پراگ و طبع اور پراگندہ خیال میں کسی ایسے لیڈر کے ماتحت وہ لوگ نہیں ہیں جو ان کے نزدیک واجب الاطاعت ہے " ظاہر ہے کہ واجب الاطاعت لیڈر دینی جماعت کے لیے نبی کے بعد خلیفہ ہی ہوتا ہے اس کے بغیر وحدت نظام قائم نہیں رہ سکتی۔اس لیے ضروری ہے کہ سلسلہ خلافت جماعت احمدیہ میں جاری رہے تا کہ یہ جماعت بھی پراگندہ طبع اور پراگندہ خیال نہ بن جائے۔4 - اسی طرح حضور علیہ السلام نے اپنے رسالہ پیغام صلے میں مہندوؤں سے معاہدہ کرنے اور اُن کے نقض عہد کی صورت میں فرمایا کہ وہ لوگ ایک ٹرکی نظم تاوان کی جو تین لاکھ روپیہ سے کم نہیں ہو گی احمدی سلسلہ کے پیش رو کی خدمت میں پیش کریں گے " ر پیغام صلح ) اس سے بھی ثابت ہے کہ احمدی سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک ہر زمانہ میں ایک پیش رو اور واجب الاطاعت امام کا ہونا ضروری ہے ورنہ معاہدہ کی صورت بے معنی ہو جائے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان ارشادات سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد خلافت کا سلسلہ جاری رہے گا اور یہ خلافت خلافت راشدہ کے رنگ میں شخصی خلافت ہوگی اور پارلیمنٹوں یا سوسائٹیوں کے طریق پر کوئی انجمین خلافت کی مستحق نہ پہلے ہوئی نہ آئندہ ہوگی۔ارشادات حضرت خلیفہ ایسی الاول رضی اللہ تعالی عنہ حضرت مولانا حکیم نور الدین رضی اللہ عنہ ، مٹی نشا کو منصب خلافت پر سرفراز ہوئے۔حضرت نے خلیفہ بننے کے بعد سے لیکر اپنی زندگی کے آخری