نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف

by Other Authors

Page 30 of 78

نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف — Page 30

٣٠ لمحات تک خلافت کی اہمیت اور خلافت سے وابستگی اور اس کے مقام کے احترام کے متعلق اپنی تقریر وں اور خطبات میں متعدد واضح ارشادات فرمائے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال پر جماعت کے بڑے بڑے عمائدین کی طرف سے آپ کی خدمت میں درخواست پیش کی گئی کہ آپ خلافت کے بار کو سنبھا لیں اور بحیت ہیں۔ان عمائدین میں خواجہ کمال الدین صاحب مولوی محمد علی صاحب اور ان کے کئی دیگر رفقاء شامل تھے۔اس درخواست پر حضرت خلیفہ اول رض نے جو ارشاد فرمایا وہ قابل غور بھی ہے اور قابل عمل بھی۔آپ نے فرمایا :- اگر تم میری سبعیت ہی کرنا چاہتے ہو تو سن لو کہ بیت بک جانے کا نام ہے۔ایک دفعہ حضرت نے مجھے اشارہ فرمایا کہ وطن کا خیال بھی نہ کرنا۔سو اس کے بعد میری ساری عربت اور سارا خیال اُنہی سے وابستہ ہو کیا اور میں نے کبھی وطن کا خیال تک نہیں کیا پس صحبت کرنا ایک مشکل امر ہے۔ایک شخص دوسرے کے لیے اپنی تمام تربیت اور بلند پروازیوں کو چھوڑ دیتا ہے " اسی تقریر میں آخر پر حضور نے یہ ارشاد بھی فرمایا :- یا درکھو ساری خوبیاں وحدت میں ہیں، جس کا کوئی رئیس نہیں وہ مرچکی " را خیار بدر در جون نشانه) ۲۔منصب خلافت پر فائز ہو چکنے کے بعد ایک موقع پر آپنے فرمایا :- اب میں تمھارا خلیفہ ہوں۔اگر کوئی کہے کہ الوصيّة ہمیں حضرت صاحب نے نور الدین کا ذکر نہیں کیا ، تو ہم کہتے ہیں ایسا ہی آدم اور ابوبکری کا ذکر بھی ہلی پیشگوئیوں میں نہیں۔۔۔۔تمام