نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف

by Other Authors

Page 28 of 78

نبوّت و خلافت کے متعلق اہل پیغام اور جماعت احمدیہ کا موقف — Page 28

۲۸ یہ ارشاد بھی تبلاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت میں خلافت کا سلسلہ جاری رہے گا اور بعض خلفاء حضور کی اولادمیں سے بھی ہوں گے۔-۴- حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وفات سے ڈیڑھ ماہ قبل لا ہور میں ایک تقریر فرمائی تھی جس میں خلافت کے متعلق ایک واضح ارشاد ہے۔حضور فرماتے ہیں :- صوفیاء نے لکھا ہے کہ جو شخص کسی شیخ یا رسول اور نبی کے بعد خلیفہ ہونے والا ہوتا ہے تو سب سے پہلے خدا کی طرف سے اُس کے دل میں حق ڈالا جاتا ہے۔جب کوئی رسول یا مشائخ دفات پا جاتے ہیں تو دنیا پر ایک زلزلہ آجاتا ہے اور وہ ایک بہت ہی خطرناک وقت ہوتا ہے مگر خدا کسی خلیفہ کے ذریعہ اس کو مٹاتا ہے در پھر گویا اس امرکا از سر کو اس خلیفہ کے ذریعہ اصلاح و استحکام ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں اپنے بعد خلیفہ مقرر نہ کیا۔اس میں بھی ہیں بھید تھا کہ آپ کو خوب علم تھا کہ اللہ تعالی خود ایک خلیفہ مقرر فرمائے گا، کیونکہ یہ خدا ہی کا کام ہے " پھر فرمایا : ایک الہام میں اللہ تعالٰی نے ہمارا نام بھی شیخ رکھا ہے : أنتَ الشَّيْر الْمَسِيحُ الَّذِي لَا يُضَاعُ وَقتُهُ والحکم ۴ در اپریل ۱۳۹۵ ) اس ارشاد سے بھی واضح ہے کہ حضور کے بعد خلفاء ہوں گے۔- پھر آپ نے اپنے رسالہ پیغام صلح" میں تحریر فرمایا :- " جو لوگ ہماری جماعت سے ابھی باہر ہیں دراصل وہ سب