نبوت سے ہجرت تک

by Other Authors

Page 77 of 81

نبوت سے ہجرت تک — Page 77

،، آنی آئے تو پھر تو گویا ساری اُمت کی اُمت مٹ گئی۔مچہ۔حضرت ابو بکر رضہ نے اپنے بیٹے کو ہدایت کی تھی کہ خبریں دیں۔کیا وہ نہیں آئے تھے۔ماں۔عبداللہ بن ابو بکر رات کو اندھیرا ہوتے ہی غار میں آجاتے سب خبریں دیتے رات وہیں گزارتے اور صبح سویرے واپس چلے جاتے۔اسی طرح عامرین فہیرہ بکریاں چراتے ہوئے اُدھر آ جاتے اس طرح دودھ کا انتظام ہو جاتا۔حضرت اسماء کھانا لے آئیں۔تیسرے دن صبح کے وقت نمار سے نکلے (بنجاری باب الہجرت) یہ پیر کا دن تھا۔چار ربیع الاول سنہ نبوی ۱۲ عبدالله بن اریقط جن کو پہلے سے پروگرام بنا دیا گیا تھا دونوں اوشنیاں لے کر پہنچے گئے (بخاری باب الہجرت) ایک اونٹنی جس کا نام القصوا تھا پر آپ سوار ہوئے دوسری پر حضرت ابو بکر رض اور عامر بن فہیرہ سوار ہوئے روانہ ہوتے وقت آپ نے مکہ کی طرف آخری نظر ڈالی اور حسرت سے کہا۔" اسے مکہ کی بستی تو مجھے سب جگہوں سے زیادہ عزیز ہے پر تیرے۔لوگ مجھے یہاں رہتے نہیں دیتے۔" (مسند احمد و نه مندی بحوالہ زرقانی اس وقت حضرت ابو بکر رض نے کہا۔" ان لوگوں نے اپنے بیٹی کو نکالا ہے۔اب یہ ضرور ہلاک ہوں گے، (ترمندی و نسائی بحوالہ زرقانی) دونوں ساتھی دشمن سے بچنے کے لئے اصل راستہ چھوڑ کر ساحل سمندر کے قریب قریب یثرب کی طرف روانہ ہوئے براہر ایک رات اور دوسرے دن کا کچھ حصہ چلتے رہے۔دوسرے دن شدید گرمی میں ایک پتھر کے سائے میں