نبوت سے ہجرت تک

by Other Authors

Page 47 of 81

نبوت سے ہجرت تک — Page 47

ماں۔پیاری جان ! یہ سب تو وقتی سہارے ہوتے ہیں۔اصل سہارا تو خدا تعالیٰ ) ذات ہے اور جو خدا کا ہو۔اور جس کا خدا ہو۔وہ ان دکھوں کو بڑے ہونہ ہمت اور صبر سے برداشت کرتے ہیں۔اور پھر خدا بھی ان کو دکھاتا ہے کہ میں اُن کے ساتھ ہوں۔ان ظالموں کے حوصلے بے شک بڑھ گئے۔اب انہوں نے براہ راستہ پیارے آقا کو مظالم کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ایک دن آپ راستے پیر جارہے تھے تو ایک شہری نے سر پر خاک ڈال دی۔صحن کعبہ میں سیدہ میں تھے تو ابو جہل کے کہنے پر عقبہ بن ابی محیطہ نے اونٹی کی بچہ دانی کمر پر رکھ دی۔جو گندگی اور خون سے بھری ہوئی تھی اور آپ بوجھ سے اُٹھ نہ سکے تو حضرت فاطمریضہ نے آکر اس کو اٹھایا۔اور سارے بد نصیب سنتے اور قہقہے لگاتے رہے۔بچہ۔پہلے تو آپ پریشان ہو کہ جب گھر آتے تھے تو حضرت خدیحہ انسلی دینی تعقید اب تو گھر میں بھی آپ اُداس رہتے ہوں گے۔ماں۔یہ تو تھا لیکن اپنے پیاروں کے سارے کام خدا ہی کرتا ہے۔اس نے ہی آر کے لئے ایک اور ہمدردو غمگسار، محبت کرنے والی بیوی چن لی۔پیارے آ نے خواب میں دیکھا کہ حضرت جبرائیل نے ایک سبز ریشمی رومال دیا بھی حضرت عائشہ بنت ابو بکر صدیق رض کی تصویر بنی ہوئی تھی۔اور کہا کہ یہ آپ کی بیوی ہے دنیا اور آخرت میں بھر خدا تعالیٰ نے خود ہی شادی کا پیغام بھیجنے کا سامان کر دیا۔کچھ عرصے بعد خولہ زوجہ عثمان بن مظعون آپ کو