نبوت سے ہجرت تک — Page 71
21 دوستیاں تھیں۔تجارتی معاملات میں بھی لین دین چلتا تھا۔مگر میں ستائے ہوئے لوگ تھوڑے تھوڑے قافلوں کی صورت میں مشرب جانے لگے۔خالی مکانات دیکھ کہ مکہ کے کافروں کو دکھ ہوتا مگر فلموں کا احساس نہ ہوا۔الٹا پیارے آقا پر غصہ نکالتے کہ کیسا نیا دین لے کر آیا کہ یہ جدائیاں ڈال دیں۔بچہ۔اللہ تعالی کتنا پیارا ہے۔بیچارے منظلوم مسلمانوں کے لئے ایک راہ نکال دی مگر وہ وہاں جا کہ کہاں ٹھہرتے ہوں گے۔ماں۔یثرب میں اسلام اور مسلمانوں سے محبت نے عجیب پیار بھری فضا پیدا کر دی تھی۔وہ آپ کی صحبت میں تربیت پانے والے مہاجرین کو ایک نعمت سمجھتے۔اصرار سے ٹھہراتے اور ہر طرح آرام پہنچا کر خوشی محسوس کرتے۔مکہ سے اکثر مسلمان مشرب پہنچ گئے۔صرف آپ ، حضرت ابوبکر صدیق رضہ اور حضرت علی کے گھر والے رہ گئے یا ایسے کمزور افراد ہجرت کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے یا دو جن کو قریش نے تقریباً قید کر رکھا تھا نکل نہ سکتے تھے۔بچہ۔پھر تو قریش کے لئے آپ کو ستانا اور بھی آسان ہو گیا ہو گا۔مان۔جی ہاں وہ مشرب میں اسلام کے طاقتور ہونے کی خبر سے بھی بہت فکر مند تھے۔اس لئے وہ چاہتے تھے کہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر کوئی ایسا فیصلہ کہیں کہ آپ کو زندہ ہی نہ چھوڑیں۔کوئی منصوبہ سوچنے کے لئے وہ دارالندوہ میں جمع ہوئے یہ ایک قومی مرکز تھا جو قصی بن کلاب نے تعمیر کر وایا تھا۔ان کی تعداد سو بڑے بڑے سردار اور ایک علاقہ سنجد کا شیطان صفت بوڑھا بھی موجود تھا۔ایک سے ایک ظالم مخالف جمع تھا۔ابو جہل ، ابو سفیان ،