نبوت سے ہجرت تک

by Other Authors

Page 68 of 81

نبوت سے ہجرت تک — Page 68

دو۔طرح ان کی حفاظت کرنا ہوگی۔ہر دشمن سے لڑنا ہو گا۔ایسانہ ہوکہ نہیں ان کے دشمنوں کے حوالے کر دو۔اگر تیار ہو تو بہتر ورنہ ابھی جواب دے (سیرة النبی از شیلی نعمانی حصہ اول ص۲۶۲، ۲۶۵) البراء بن معرور ایک بزرگ اور عمر رسیدہ شخص تھے نے کہا "عبائش ہم نے تمہاری بات سن لی ہے۔مگر ہم چاہتے ہیں کہ رسول اللہ خود بھی اپنی زبان مبارک سے کچھ فرما دیں جو ذمہ داری ہم پر ڈانا چاہتے ہیں بیان فرما دیں۔بچہ پیارے آقا نے کیا فرمایا۔ماں۔پیارے آقا نے سب سے پہلے قرآن پاک کی آیات کی تلاوت کی پھر مختصر سی تقریر میں اسلام کی تعلیم بیان فرمائی۔پھر اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کی بات کی اور فرمایا۔" میں اپنے لئے صرف اتنا چاہتا ہوں کہ جبیں طرح تم اپنے عزیزوں اور رشتے داروں کی حفاظت کرتے ہو اسی طرح اگر ضرورت پیش آئے تو میرے ساتھ بھی معاملہ کہ وہ البراء بن معرور نے آپ کا ہاتھ تھام کہ کہا خدا کی قسم جس نے آپ کو حق و صداقت کے ساتھ بھیجا ہے ہم اپنی جانوں کی طرح آپ کی حفاظت کریں گے۔ابوا اہیم نے کہا " یا رسول اللہ یثرب کے یہودیوں کے ساتھ پر اتنے تعلقات ہیں وہ آپ کے ساتھ ہونے کی وجہ سے ختم ہو جائیں گے ایسا نہ ہو کہ جب اللہ تعالیٰ آپ کو غالب کر دے تو آپ ہمیں چھوڑ کر اپنے وطن چلے جائیں۔آپ مسکرائے اور فرمایا۔" ایسا کبھی نہیں ہو گا تمہارا خون میرا خون تمھارے دوست میرے دوست اور تمھارے دشمن میرے دشمن ہوں گے اس