نبوت سے ہجرت تک — Page 53
۵۳ سے بڑی محبت کرتا تھا۔اب ایک پر لطف واقعہ سنو۔قبیلہ دوس کا ایک تقریب میں مکہ آیا۔اس کا نام طفیل درسی تھا۔قریش مکہ پتہ ہے کیا کرتے تھے جب کوئی باہر سے آنا۔خاص طور پر اہم آدمی تو فوراً اس کے پاس چا کہ بتاتے کہ ہمارے ہاں ایک آدمی نے فتنہ کھڑا کر دیا ہے اُس کی بات نہ سننا وہ جادوگر ہے۔حسب معمول وہ طفیل دوسی کے پاس گئے اور یہ سب کچھ اُسے سمجھایا اور خوب درا یا کہ اگر تم اس کی بات سنور گئے تو تمہارا مذہب خراب ہو جائے گا۔وہ بھائی کو بھائی سے ، شوہر کو بیوی سے اور باپ کو بیٹے سے جدا کر دیتا ہے طفیل کہتے ہیں وہ اتنا خوفزدہ ہو گیا کہ اُس جادو گر کی آواز سے بچنے کے لئے دونوں کانوں میں روٹی ڈال لی۔ایک دن خانہ کعبہ گیا تو دیکھا ایک کونے میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) مجیب طریقی سے عیادت کر رہے ہیں۔انداز بڑا خوبصورت تھا تھوڑی تھوڑی آواز بھی آ رہی تھی۔میں نے کانوں سے روٹی نکال دی۔بڑا زبر دست کلام تھا۔وہ عبادت سے فارغ ہو کہ گھر کی طرف چلے تو میں بھی ساتھ ہو گیا۔آپ نے کلام الہی سنایا اور توحید کی تعلیم دی جس کے اثر سے میں فورا مسلمان ہو گیا۔بچہ۔داہ کتنے مزے کی بات ہے۔قریش مکہ کی خوب ہار ہوگئی۔ماں۔جس کے لئے اللہ تعالیٰ ہدایت کے دروازے کھول دے وہ دوسروں کے روکنے سے کہاں رک سکتا ہے۔طفیل دوسی نے واپسی کی اجازت چاہی اور دعا کی درخواست کی۔آپ کی دعاؤں کے ساتھ جو اپنی قوم کی طرف واپس گئے اور پیغام تو حید دیا۔آپ کے والد اور بیوی تو فورا مسلمان ہو گئے