نبوت سے ہجرت تک

by Other Authors

Page 30 of 81

نبوت سے ہجرت تک — Page 30

بادشاہ سے ملے۔اور اُسے بھڑ کانے کے لئے کہا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ حضرت مسیح کے بارے میں ان کا کیا عقیدہ ہے۔بچہ۔مسلمان تو حضرت میں کو خدا کا نبی مانتے ہیں اور عیسائی خدا کا بیٹا اس کی وجہ سے بڑا مسئلہ ہو گیا ہوگا۔کیونکہ بادشاہ تو عیسائی تھا۔ماں۔بادشاہ نے جب دوبارہ مسلمانوں کو بلایا اور پوچھا کہ تم لوگوں کا حضرت سیچ کے بارے میں کیا عقیدہ ہے۔تو حضرت جعفر نے بڑی جرات سے اور بہت دلیری سے بیان کیا کہ : " اسے بادشاہ مسیح اللہ کا ایک بندہ ہے۔وہ خدا نہیں ہے لیکن خدا کا پیارا رسول ہے۔جو خدا تعالیٰ کی حکمت کے تحت اس کی منشاء سے پیدا ہوا۔" بیچہ۔کیا بادشاہ کو غصہ آگیا۔ماں۔بالکل نہیں۔ایک بات ہمیشہ یاد رکھو۔سچائی میں طاقت ہے اور وہ پہنچ جو خدا تعالیٰ کی شان کو ظاہر کرنے کے لئے بولا جائے۔دلوں پر اثر کرتا ہے۔اور یہی حال سنجاشی کا ہوا۔وہ بہت متاثر ہوا پھر اس نے زمین پر سے ایک تنکا اٹھایا اور بول کہ خدا کی قسم ! جو کچھ تم نے کہا میرا بھی بالکل ہی ایمان ہے۔اور اس تنکے جتنا بھی فرق نہیں۔دربار کے پادری ناراض ہوئے۔لیکن سنجاشی نے اس کی کوئی پرواہ نہیں کی اور قریش کا وفد نا کام واپس لوٹ گیا۔بچہ۔مہاجرین کب تک جلسہ میں رہے۔ماں۔کچھ افراد تو مدینہ کی ہجرت سے پہلے مکہ لوٹے۔لیکن باقی صحابیہ اس وقت