نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 87

۸۷ نبیوں کا سردار شکست ملے گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے، بلکہ اُن کی تباہی کی گھڑی کا خدا تعالیٰ کی طرف سے وعدہ ہے اور یہ تباہی کی گھڑی بڑی ہلاکت والی اور بڑی کڑوی ہو گی اُس دن مجرم پریشانی اور عذاب میں مبتلا ہوں گے اور اپنے مونہوں کے بل گھسیٹ کر اُن کو آگ کے گڑھوں میں ڈال دیا جائے گا اور کہا جائے گا اب پڑے عذاب چکھو۔یہ آیتیں سورہ قمر کی ہیں اور سورہ قمر تمام اسلامی روانیوں کے مطابق مکہ میں نازل ہوئی تھی۔مسلمان علماء بھی اس سورۃ کو پانچویں سے دسویں سال بعد دعوی نبوت قرار دیتے ہیں۔یعنی ہجرت سے کم سے کم تین سال پہلے یہ نازل ہوئی تھی بلکہ غالباً آٹھ سال پہلے۔یورپین محقق بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔چنانچہ نولڈ کے اس سورۃ کو دعوی نبوت کے پانچ سال بعد کی قرار دیتا ہے۔ریورنڈ ویری لکھتے ہیں کہ میرے نزدیک نولڈ کے نے اس سورۃ کے نزول کا وقت کسی قدر پہلے قرار دے دیا ہے۔وہ اپنا اندازہ یہ بتاتے ہیں کہ چھٹے یا ساتویں سال ہجرت سے پہلے یہ نازل ہوئی۔جس کے معنی یہ ہیں کہ اُن کے نزدیک یہ سورۃ چھٹے یا ساتویں سال بعد دعوی نبوت کی ہے۔بہر حال مسلمانوں کے دشمنوں نے بھی اس سورۃ کو ہجرت سے کئی سال پہلے کا قرار دیا ہے۔اُس زمانہ میں کس صفائی کے ساتھ اس جنگ کی خبر دی گئی تھی اور کفار کا انجام بتادیا گیا تھا اور پھر کس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کی جنگ شروع ہونے سے پہلے ان آیات کو پڑھ کر مسلمانوں کو توجہ دلائی کہ خدا کا وعدہ پورا ہونے کا وقت آگیا ہے۔غرض چونکہ وہ وقت آگیا تھا جس کی خبر یسعیاہ نبی نے قبل از وقت دے چھوڑی تھی لے اور جس کی خبر قرآن کریم نے دوبارہ جنگ شروع ہونے سے چھ یا آٹھ سال پہلے دی تھی اس لئے باوجود اس کے کہ مسلمان اس جنگ کے لئے تیار نہ تھے اور باوجود اس کے کہ کفار لے یسعیاہ باب ۲۱ آیت ۱۳ تا ۱۷۔بائبل سوسائٹی انار کلی لاہور