نبیوں کا سردار ﷺ — Page 86
ΔΥ نبیوں کا سردار ایک عظیم الشان پیشگوئی کا پورا ہونا جب جنگ شروع ہونے کا وقت آیا۔رسول کریم ﷺ اس جگہ سے جہاں آپ بیٹھ کر دعا کر رہے تھے باہر تشریف لائے اور فرما یاسَيُهْزَهُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ النُّبُرَ دشمنوں کا لشکر شکست کھا جائے گا اور پیٹھ پھیر کر میدان چھوڑ جائے گا۔یہ الفاظ جو آپ نے فرمائے یہ قرآن کریم کی ایک پیشگوئی تھی جو مکہ میں ہی اس جنگ کے متعلق قرآن کریم میں نازل ہوئی تھی۔مکہ میں جب مسلمان کفار کے ظلموں کا تخیہ مشق ہورہے تھے اور ادھر اُدھر ہجرت کر کے جا رہے تھے خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کی یہ آیات نازل فرما ئیں وَلَقَدْ جَاءَ آلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا كُلِهَا فَأَخَذْنَاهُمْ أَخْذَ عَزِيزِ مُّقْتَدِرٍ أَكْفَارُكُمْ خَيْرٌ مِنْ أُولَئِكُمْ أَمْ لَكُم بَرَاءَةٌ فِي الزُّبُرِ أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعُ مُنتَصِرٌ سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ النُّبُرَ بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ ے یعنی اے مکہ والو! فرعون کی طرف بھی انذار کی با تیں آئی تھیں لیکن انہوں نے ہماری تمام آیتوں کا انکار کیا پس ہم نے اُن کو اس طرح پکڑ لیا جیسے ایک طاقتور غالب ہستی پکڑا کرتی ہے۔(اے مکہ والو!) بتاؤ کیا تمہارے کفاران (کفار) سے اچھے ہیں یا تمہارے لئے پہلی کتابوں میں حفاظت کا کوئی وعدہ آچکا ہے؟ وہ کہتے ہیں ہم تو ایک بڑی طاقت ہیں جو دشمنوں سے ہارتی نہیں بلکہ دشمنوں سے بدلے لیا کرتی ہے (وہ یہ باتیں کرتے رہیں ) اُن کے جتھے عنقریب اکٹھے ہوں گے اور پھر انہیں بخاری کتاب التفسیر - تفسير سورة اقتربت الساعة باب قوله سيهزم الجمع۔۔۔۔۔الخ القمر : ۴۲ تا ۴۹