نبیوں کا سردار ﷺ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 327

نبیوں کا سردار ﷺ — Page 33

۳۳ نبیوں کا سردار اور اسلام کے شدید دشمن تھے اور مسلمانوں کو تکلیف دینے والوں میں سے چوٹی کے آدمی تھے اتفاقاً اُس قافلہ کے بعض افراد کو مل گئے۔اُن میں ایک صحابیہ ام عبداللہ نامی بھی تھیں۔بندھے ہوئے سامان اور تیار سواریوں کو جب آپ نے دیکھا تو آپ سمجھ گئے کہ یہ لوگ مکہ کو چھوڑ کر جا رہے ہیں۔آپ نے کہا اُم عبداللہ یہ تو ہجرت کے سامان نظر آرہے ہیں۔ام عبداللہ کہتی ہیں میں نے جواب میں کہا ہاں خدا کی قسم ! ہم کسی اور ملک میں چلے جائیں گے کیونکہ تم نے ہم کو بہت دکھ دیئے ہیں اور ہم پر بہت ظلم کئے ہیں ہم اُس وقت تک اپنے ملک میں نہیں لوٹیں گے جب تک خدا تعالیٰ ہمارے لئے کوئی آسانی اور آرام کی صورت نہ پیدا کر دے۔اُمم عبداللہ بیان کرتی ہیں کہ عمر نے جواب میں کہا اچھا خدا تمہارے ساتھ ہو اور میں نے اُن کی آواز میں رقت محسوس کی جو اس سے پہلے میں نے کبھی محسوس نہیں کی تھی۔پھر وہ جلدی سے منہ پھیر کر چلے گئے اور میں نے محسوس کیا کہ اس واقعہ سے ان کی طبیعت نہایت ہی غمگین ہوگئی ہے۔لے جب اُن لوگوں کے ہجرت کرنے کی مکہ والوں کو خبر ہوئی تو انہوں نے ان کا تعاقب کیا اور سمندر تک ان کے پیچھے گئے مگر یہ قافلہ ان لوگوں کے سمندر تک پہنچنے سے پہلے ہی حبشہ کی طرف روانہ ہو چکا تھا۔جب مکہ والوں کو یہ معلوم ہوا تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ ایک وفد بادشاہ حبشہ کے پاس بھیجا جائے جو اُ سے مسلمانوں کے خلاف بھڑکائے اور اُسے تحریک کرے کہ وہ مسلمانوں کو مکہ والوں کے سپر د کر دے تا کہ وہ انہیں ان کی اس شوخی کی سزا دیں کہ رؤسائے شہر کے ظلموں کو برداشت نہ کرتے ہوئے وہ مکہ سے کیوں بھاگے تھے۔اس وفد میں عمرو بن العاص بھی تھے جو بعد میں مسلمان ہو گئے تھے اور مصر اُنہی کے ہاتھوں فتح ہوا۔ہوا۔یہ وفد حبشہ گیا اور بادشاہ سے ملا اور امرائے دربار کو اُنہوں نے خوب ل السيرة الحلبية جلدا صفحه ۳۶۱۔مطبوعہ مصر ۱۹۳۲ء